(سود سے پاک قسطوں پر کاروبار )۔
(سود سے پاک قسطوں پر کاروبار )
![]() |
| Link |
قسطوں پر کاروبار اگر مندرجہ ذیل شرائط کے مطابق ہوتو وہ فقہاء کی تصریح کے مطابق جائز ہےاور ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ بھی جائز ہےبشرطیکہ مزید کوئی شرط ِفاسد نہ لگائی جائے اور وہ شرائط یہ ہیں
(1)
جائز اور حلال اشیاء کا کاروبار ہو۔
(2)
مجلسِ عقد میں مبیع کی پوری قیمت طے کرلی جائے۔
(3)
کل مدت ادائیگی قسطوں کی مقدار اور ادائیگی کے اوقات بھی طے ہو جائیں ۔
(4)
قیمت مقرر ہونے کے بعد اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے بالخصوص بعد میں مدت میں اضافہ یا قسط کی ادائیگی میں تأخیر کی وجہ سے نہ قیمت میں اضافہ ہو،اور نہ جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصول کی جائے کیونکہ یہ سود میں داخل ہے۔
مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی دوکاندار ،چیز ادھار دینے کی وجہ سے اس چیز کی بازاری قیمت سے زیادہ قیمت مقرّر کرتا ہو(جو کہ مشتری کے علم میں بھی ہو) تو باہمی رضامندی سے یہ جائز ہے، اور ادھار کی وجہ سے کسی چیز کی بازاری قیمت سے زائد قیمت طئے کرلینا ،سود میں داخل نہیں ہے،بشرطیکہ وہ چیز دوبارہ بائع(فروخت کنندہ) کوبیچنا مشروط نہ ہو۔البتہ اگر چاہیں توبوقتِ ضرورت بازار میں کسی اور کو فروخت کرسکتے ہیں جس کا پہلے بائع سے کوئی تعلق نہ ھو۰
مزید معلومات کے لیے بنوری ٹاؤن سے جاری شدہ فتویٰ سے استفادہ ھونے کے لیے لنک پر کلک کر یں۔
👈 فتویٰ Link👉
واللہ تعالی اعلم بالصواب
![]() |
| Link👆 |




تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں