(سود سے پاک قسطوں پر کاروبار )۔
(سود سے پاک قسطوں پر کاروبار ) Link قسطوں پر کاروبار اگر مندرجہ ذیل شرائط کے مطابق ہوتو وہ فقہاء کی تصریح کے مطابق جائز ہےاور ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ بھی جائز ہےبشرطیکہ مزید کوئی شرط ِفاسد نہ لگائی جائے اور وہ شرائط یہ ہیں (1) جائز اور حلال اشیاء کا کاروبار ہو۔ (2) مجلسِ عقد میں مبیع کی پوری قیمت طے کرلی جائے۔ (3) کل مدت ادائیگی قسطوں کی مقدار اور ادائیگی کے اوقات بھی طے ہو جائیں ۔ (4) قیمت مقرر ہونے کے بعد اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے بالخصوص بعد میں مدت میں اضافہ یا قسط کی ادائیگی میں تأخیر کی وجہ سے نہ قیمت میں اضافہ ہو،اور نہ جرمانہ کے نام پر زائد رقم وصول کی جائے کیونکہ یہ سود میں داخل ہے۔ مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر کوئی دوکاندار ،چیز ادھار دینے کی وجہ سے اس چیز کی بازاری قیمت سے زیادہ قیمت مقرّر کرتا ہو(جو کہ مشتری کے علم میں بھی ہو) تو باہمی رضامندی سے یہ جائز ہے، اور ادھار کی وجہ سے کسی چیز کی بازاری قیمت سے زائد قیمت طئے کرلینا ،سود میں داخل نہیں ہے،بشرطیکہ وہ چیز دوبارہ بائع(فروخت...